اہل البیت (ع) نیوز ایجینسی- ابنا - کی رپورٹ کے مطابق شام کی پارلیمان "مجلس الشعب" کے رکن شریف شحادہ کا کہنا تھا کہ شام میں القاعدہ، تکفیری گروپوں، قطر، سعودی عرب اور قطر اور ترکی کی مداخلت پہلے سے کہیں زيادہ آشکار ہوچکی ہے۔
انھوں نے کہا: ڈیڑھ سال کی اس مدت میں مختلف قسم کی مداخلتیں ہوئی ہیں تا ہم شام کے عوام اور مسلح افواج کو قومی اتحاد اور یگانگت کا تحفظ کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی اور جو لوگ اپنی امیدیں شام کی شکست سے باندھے ہوئے تھے انہیں نقصان اٹھانا پڑا۔ آج شام میں بیرونی مداخلت ایک افسانہ نہيں ہے بلکہ پوری دنیا جانتی ہے کیونکہ یہ مداخلت خفیہ طور پر نہيں بلکہ اعلانیہ ہورہی ہے چنانچہ شامی وزیر خارجہ ولید المعلم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اس نکتے کی طرف اشارہ کیا جو درست اشارہ تھا اور اس میں شک نہيں ہے کہ شام کا مسئلہ حل کرنے کا واحدہ راستہ یہ ہے کہ باغی دہشت گردوں کو بیرونی ممالک کی طرف سے امداد اور ہتیھاروں کی ترسیل بند کی جائے۔
انھوں نے کہا: ترکی، قطر اور سعودی عرب شام کے باغیوں کو امداد فراہم کرنے میں پیش پیش ہیں گوکہ ان گروپوں کی حمایت کو امداد کی فراہمی میں اصل اور بنیادی کردار امریکہ ادا کررہا ہے اور یہ ممالک اس کے اشارے پر کام کررہے ہیں۔
انھوں نے کہا: جب تک ہتھیار زمین پر نہيں رکھے جائیں گے، مذاکرات کا منصوبہ پیش کرنا غیرمعقول ہوگا اور چونکہ مسلح دہشت گرد مسلسل شام میں بھجوائے جارہے ہیں سیاسی عمل کے آغاز کی امید نہیں رکھی جاسکے گي۔
شحادہ نے کہا: شام کے مسئلے کا واحد راہ حل یہ ہے کہ تمام شامی گروپ اور جماعتیں قومی مذاکرات میں شرکت کریں لیکن اس کی شرط یہ ہے کہ تمام گروپ ہتھیار ڈال دیں، تشدد بند کریں، دہشت گردی کو ترک کیا جائے اور اجنبیوں کی مداخلت ختم کی جائے اور اگر ایسا ہوا تو شام کے عوام اپنے ملک کا مسئلہ خود حل کرنے کی پوری پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔
انھوں نے کہا: شام کے وزیر خارجہ نے تمام مخالف جماعتوں کو گفتگو کی دعوت دی ہے ہے لیکن بیرون ملک بیٹھے ہوئے مخالفین گفتگو اور مذاکرات نہیں چاہتے کیونکہ ان کے پاس پہلے سے تیار شدہ منصوبے ہیں اور اپنے آقاؤں اور حامیوں کی اجازت کے بغیر مذاکرات کی طرف قدم نہيں بڑھا سکتے؛ وہ مسلسل شام کی حکومت کا تختہ الٹنے کا نعرہ لگارہے ہیں اور بیرونی قوتوں کو شام میں فوجی مداخلت کی دعوتیں دے رہے ہیں ایسے میں یہ کیونکر ممکن ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ مذاکرہ کیا جائے جو حکومت شام کے دشمن ہیں اور اس کا تختہ الٹنے کے لئے کوشاں ہیں اور پھر ان کے حامی ذرائع ابلاغ و تشہیر بھی ان ہی کے موقف کو اچھال اچھال کر پیش کررہے ہیں!
.....
/169-110
تفصیل کے لئے رجوع کیجئے: